حدیث نمبر: 855
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، أنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلاةِ وَتَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الصَّلاةِ لَشُغْلا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا کرتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے ، چنانچہ جب ہم ( ہجرت حبشہ کے بعد ) نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نماز کی حالت میں ) سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سلام کا جواب نہ دیا ۔ ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کیا جواب دیا کرتے تھے ـ ( اب کیوں نہیں دیا ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں مشغولیت ہوتی ہے ـ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه / حدیث: 855
تخریج حدیث صحيح بخاري