صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه— نماز میں جائز گفتگو ، دعا ، ذکر اور رب عزوجل سے مانگنے اور اس سے مشابہ اور اس جیسے ابواب کا مجموعہ ۔
(306) بَابُ إِبَاحَةِ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں دعا مانگنے کے جواز کا بیان ۔
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نَغْدُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ ، وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقُولُ إِذَا صَلَّيْتُ ؟ قَالَ : " قُلِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَعَافِنِي ، وَارْزُقْنِي ، فَقَدْ جُمِعَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ " حضرت ابومالک اشجعی اپنے والد گرامی سے روایت کر تے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوتے چنانچہ مرد و خواتین آتے اور عرض کرتے کہ اے اللہ کے رسول ، جب میں نماز پڑھوں تو کیسے دعا مانگوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” اس طرح مانگا کرو « اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي » ” اے اللہ ، مجھے معاف فرما ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت عطا کر ، مجھے عافیت سے نواز دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ “ تو تیرے لئے تیری دنیا اور آخرت ( کی ہر خیر و بھلائی ) جمع کر دی جائے گی ۔ “