صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب سترة المصلي— نمازی کے سُترہ کے ابواب کا مجموعہ
(304) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، باب: نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان ،
حدیث نمبر: 842
نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ، فَلا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب موسیٰ بن طلحہ اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم اس حال میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے تھے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو آگے سے گزرنے والی چیز اُسے نقصان نہیں دے گی ۔ “