حدیث نمبر: 833
قَدْ يَحْسِبُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ خِلَافُ خَبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

بعض اہل علم کا خیال ہے کہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے خلاف ہے کہ ” گدھا ، کُتّا اور عورت نماز کو کاٹ دیتے ہیں ۔ “

ناهُ أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصُّفُوفِ ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا ، وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ ، فَلَمْ يَقُلْ لَنَا " ، قَالَ أَبُو مُوسَى : يَعْنِي شَيْئًا ، وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ : فَلَمْ يَنْهَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ : فَلَمْ يَقُلْ لَنَا شَيْئًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ : رَوَاهُ مَعْمَرٌ ، وَمَالِكٌ ، فَقَالا : يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اور فضل رضی اللہ عنہما ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو ہم کچھ صفوں کے آگے سے گزرگئے ، پھر ہم اس سے اُترے اور اُسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کچھ نہ کہا ۔ جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے ”تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا ـ“ جناب مخزومی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت کو امام معمر اور مالک نے اس طرح روایت کیا کہ ” آپ لوگوں کو منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب سترة المصلي / حدیث: 833
تخریج حدیث صحيح مسلم