حدیث نمبر: 83
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَجْلانِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لأَهْلِ قُبَاءَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ ، وَقَالَ : فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا سورة التوبة آية 108 حَتَّى انْقَضَتِ الآيَةُ " ، فَقَالَ لَهُمْ : " مَا هَذَا الطُّهُورُ ؟ " ، فَقَالُوا : مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ ، وَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری عجلانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا والوں سے فرمایا: ” بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری بڑی اچھی تعریف کی ہے۔ “ پھر یہ آیت تلاوت کی « فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ » [ سورة التوبة ] ” اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ” وہ کیسی طہارت ہے؟ ( کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری اتنی تعریف کی ہے ) “ انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں کسی چیز کا علم نہیں سوائے اس کے کچھ یہودی ہمارے ہمسائے تھے جو قضائے حاجت سے اپنی پُشتوں کو دھوتے تھے تو ہم نے بھی ( استنجا کرتے وقت پنی پُشتوں کو ) دھونا شروع کردیا جیسے وہ دھوتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏ / حدیث: 83
تخریج حدیث «اسناده حسن: مسند احمد: 422/3 ، والحاكم: 258/1 ، والطبراني فى الكبير: 140/17 ، وفي الاوسط: 89/6 ، فى الصغير: 86/2 ، مجمع الزوائد: 212/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ محمد فاروق رفیع
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری عجلانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا والوں سے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری بڑی اچھی تعریف کی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی «‏‏‏‏فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» ... [صحيح ابن خزيمه: 83]
فوائد:

یہ حدیث دلیل ہے کہ پانی کے ساتھ استنجا کرنا افضل ہے اور اس سے کمال طہارت حاصل ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل قبا کی تعریف و ثنا بیان کی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 83 سے ماخوذ ہے۔