صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار— پتھروں سے استنجا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(63) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ باب: تین سے کم ڈھلیوں سے استنجا کرنے سے منع کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 81
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَشَجِّ ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَقَدْ عَلَّمَكُمْ صَاحِبُكُمْ حَتَّى يُوشِكُ أَنْ يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ، قَالَ : أَجَلْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا ، أَوْ بِالْعَظْمِ ، أَوْ بِالرَّجِيعِ ، وَقَالَ : " لا يَكْتَفِي أَحَدُكُمْ دُونَ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مشرکوں نے کہا کہ تمہیں تمہارے ساتھی نے ( ہر ادب ) سکھایا ہے حتیٰ کہ ممکن ہے کہ تمہیں قضائے حاجت کے ( آداب ) بھی سکھائے ۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( قضائے حاجت کرتے وقت ) قبلہ کی طرف مُنہ کرنے سے یا اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے، یا ہڈی یا گوبر سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے۔ “ اور فرمایا ہے کہ ” تم میں سے کوئی شخص تین سے کم ڈھیلوں کو کافی نہ سمجھے۔ “