حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهَا بِالْمُصَلَّى " يَعْنِي الْعَنَزَةَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَفِي أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالاسْتِتَارِ بِالسَّهْمِ فِي الصَّلاةِ ، مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرَادَ بِالأَمْرِ بِالاسْتِتَارِ بِمِثْلِ آخِرَةِ الرَّحْلِ فِي طُولِهَا ، لا فِي طُولِهَا وَعَرْضِهَا جَمِيعًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عیدگاہ میں نیزے کو سُترہ بنا کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیر کو سُترہ بنانے کے حُکم سے یہ بات واضح اور ثابت ہوگئی کہ کجاوے کی پچھلی لکڑی کو سُترہ بنانے کے حُکم سے آپ کی صلی اللہ علیہ وسلم مراد اس کی لمبائی ہے ، نہ کہ اس کی لمبائی اور چوڑائی دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب سترة المصلي / حدیث: 809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح