صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب سترة المصلي— نمازی کے سُترہ کے ابواب کا مجموعہ
باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ سُترے کی اس مقدار کا بیان جس کے ساتھ نماز میں سُترہ بنانا کافی ہوجائے ۔
حدیث نمبر: 805
نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ، وَلا يَضُرُّ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت طلحہ بن موسیٰ رحمه الله اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم اس حال میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ مسئلہ ) پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( جب ) تم میں سے کسی شخص کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر سُترہ ہو تو اس کے آگے سے گزرنے والی ( چیز ) نقصان نہیں دے گی ۔ “