حدیث نمبر: 77
نا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ عِبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ ، فَإِنَّ اللَّهَ وُتِرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، أَمَا تَرَى السَّمَوَاتِ سَبْعًا ، وَالأَرْضَ سَبْعًا ، وَالطَّوَافَ سَبْعًا " وَذَكَرَ أَشْيَاءَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص ڈھیلوں سے استنجا کرے تو اسے چاہیے کہ وتر ( ڈھیلے ) استعمال کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔ کیا تم سات آسمان ، سات زمینیں اور طواف ( کے ) سات ( چکر ) نہیں دیکھتے ۔ “‏‏‏‏ ( یعنی یہ سب وتر ہیں ) اسی طرح کئ چیزیں ذکر کیں ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار / حدیث: 77
تخریج حدیث «اسناده صحيح: صحيح الجامع الصغير: 321 ، ليكن وهاں يه روايت اختصار سے هے. الحاكم: 261/1 ، رقم: 577 ، وقال هذا حديث صحيح على شرط الشخين ولم يخرجاه بهذه الالفاظ وانما اتفقا على ”المتحمر فليوترى فقط“ ، وابن حبان: 1437 ، ومجمع الزوائد: 211/1»