صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار— پتھروں سے استنجا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(60) بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْوِتْرِ فِي الِاسْتِطَابَةِ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ لَا أَمْرُ إِيجَابٍ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ استنجا کے لیے طاق ڈھیلے استعمال کرنے کا حکم استحبابی ہے ، وجوبی نہیں
وَأَنَّ مَنِ اسْتَطَابَ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ بِشَفْعٍ لَا بِوِتْرٍ غَيْرُ عَاصٍ فِي فِعْلِهِ، إِذْ تَارِكُ الِاسْتِحْبَابِ غَيْرِ الْإِيجَابِ تَارِكُ فَضِيلَةٍ لَا فَرِيضَةٍاور جس شخص نے استنجا کے لیے تین سے زیادہ جفت ڈھیلے استعمال کی، وتر استعمال نہ کیے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ وہ غیر واجب، مستحب اور افضل عمل کو چھوڑنے والا ہے نہ کہ فرضیت کو۔
نا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ عِبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ ، فَإِنَّ اللَّهَ وُتِرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، أَمَا تَرَى السَّمَوَاتِ سَبْعًا ، وَالأَرْضَ سَبْعًا ، وَالطَّوَافَ سَبْعًا " وَذَكَرَ أَشْيَاءَسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص ڈھیلوں سے استنجا کرے تو اسے چاہیے کہ وتر ( ڈھیلے ) استعمال کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔ کیا تم سات آسمان ، سات زمینیں اور طواف ( کے ) سات ( چکر ) نہیں دیکھتے ۔ “ ( یعنی یہ سب وتر ہیں ) اسی طرح کئ چیزیں ذکر کیں ۔