حدیث نمبر: 77
وَأَنَّ مَنِ اسْتَطَابَ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ بِشَفْعٍ لَا بِوِتْرٍ غَيْرُ عَاصٍ فِي فِعْلِهِ، إِذْ تَارِكُ الِاسْتِحْبَابِ غَيْرِ الْإِيجَابِ تَارِكُ فَضِيلَةٍ لَا فَرِيضَةٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اور جس شخص نے استنجا کے لیے تین سے زیادہ جفت ڈھیلے استعمال کی، وتر استعمال نہ کیے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا کیونکہ وہ غیر واجب، مستحب اور افضل عمل کو چھوڑنے والا ہے نہ کہ فرضیت کو۔

نا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ عِبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ ، فَإِنَّ اللَّهَ وُتِرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، أَمَا تَرَى السَّمَوَاتِ سَبْعًا ، وَالأَرْضَ سَبْعًا ، وَالطَّوَافَ سَبْعًا " وَذَكَرَ أَشْيَاءَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص ڈھیلوں سے استنجا کرے تو اسے چاہیے کہ وتر ( ڈھیلے ) استعمال کرے۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔ کیا تم سات آسمان ، سات زمینیں اور طواف ( کے ) سات ( چکر ) نہیں دیکھتے ۔ “‏‏‏‏ ( یعنی یہ سب وتر ہیں ) اسی طرح کئ چیزیں ذکر کیں ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار / حدیث: 77
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح: صحيح الجامع الصغير: 321
تخریج حدیث «ليكن وهاں يه روايت اختصار سے هے. الحاكم: 261/1 ، رقم: 577 ، وقال هذا حديث صحيح على شرط الشخين ولم يخرجاه بهذه الالفاظ وانما اتفقا على ”المتحمر فليوترى فقط“ ، وابن حبان: 1437 ، ومجمع الزوائد: 211/1»