صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار— پتھروں سے استنجا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(58) بَابُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِطَابَةِ بِالْأَحْجَارِ وِتْرًا لَا شَفْعًا باب: استنجا کرنے کے لیے جفت کی بجائے طاق پتھر کرنے کا حکم ہے
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ . ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَمَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ . سَمِعْتُ يُونُسَ ، يَقُولُ : سُئِلَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْنَى قَوْلِهِ : وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ، قَالَ : فَسَكَتَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَرْضَى بِمَا قَالَ مَالِكٌ ؟ قَالَ : وَمَا قَالَ مَالِكٌ ؟ قِيلَ : قَالَ مَالِكٌ : الاسْتِجْمَارُ ، الاسْتِطَابَةُ بِالأَحْجَارِ ، فَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَالِكٍ كَمَا قَالَ الأَوَّلُ : وَابْنُ اللَّبُونِ إِذَا مَا لُزَّ فِي قَرْنٍ لَمْ يَسْتَطِعْ صَوْلَةً الْبُزْلِ الْقَنَاعِيسِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص وضو کرے، وہ ناک جھاڑے اور جو ڈھیلوں سےاستنجا کرے وہ طاق ڈھیلےاستعمال کرے۔ “ اما م ابن مبارک کی روایت کی سند میں « سمع اباهريره » کے لفظ ہیں ( جبکہ مذکورہ بالا سند میں « عن ابي هريرة » ہے ) امام ابو بکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں نے یونس کو کہتے ہوئے سنا کہ امام ابن عیینہ رحمہ اللہ سے « ومن استجمر فليوتر » ” اور جو شخص استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے وہ طاق ڈھیلے استعمال کرے “ کا معنی پوچھا گیا تو ابن عیینہ رحمہ اللہ خاموش ہوگئے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ امام مالک رحمہ اللہ کی تشریح و تفسیر کو قبول کریں گے؟ انہوں نےپوچھا کہ امام مالک رحمہ اللہ نےکیا فرمایا ہے؟ کہا گیا کہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتےہیں « الاستجمار » کا معنی ڈھیلوں سے استنجا کرنا ہے۔ ( یہ سن کر ) ابن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری اور امام مالک کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پہلے ( دانا ) لوگوں نے کہا ہے۔