صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار— پتھروں سے استنجا کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(57) بَابُ الْأَمْرِ بِالِاسْتِطَابَةِ بِالْأَحْجَارِ، باب: پتھروں ( ڈھیلوں ) سے استنجا کرنے کے حکم کا بیان
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانُوا يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ : إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ ، قَالَ سَلْمَانُ : " أَجَلْ أُمِرْنَا أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا ، وَلا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ ، لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلا عَظْمٌ " . غَيْرُ أَنَّ الدَّوْرَقِيَّ ، قَالَ : قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ لِسَلْمَانَسیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُن سے کسی مُشرک نے کہا ، اور مُشرک ان سے مذاق کیا کرتے تھے، میں تمہارے ساتھی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ( ہر چیز ) سکھاتے ہیں حتیٰ کہ قضائےحاجت کا طریقہ کار بھی۔ سیدنا سلمان نے فرمایا کہ جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا ہے کہ ( قضائے حاجت کرتے وقت ) ہم قبلہ کی طرف مُنہ نہ کریں، نہ اپنے دائیں ہا تھ سے استنجا کر یں،اور نہ تین ڈھیلوں سے کم پر اکتفا کر یں، اُن میں گوبر اور ہڈی نہ ہو۔ دورقی کی روا یت میں الفاظ اس طرح ہیں « قَالَ بَعضُ المُشرِکِینَ لِسَلمَانَ » ” کسی مشرک نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا۔ “