حدیث نمبر: 702
نا الْقُطَعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ ، قَالَ : كُنَّا نَحْفَظُهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ كَمَا نَحْفَظُ حُرُوفَ الْقُرْآنِ الْوَاوَ وَالأَلِفَ ، فَإِذَا جَلَسَ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى ، قَالَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يَدْعُو لِنَفْسِهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں نماز میں تشہد پڑھنا سکھایا ۔ ( حضرت اسود ) فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اُسے اسی طرح یاد کرتے تھے جیسے قرآن مجید کے حروف واؤ اور الف کو یاد کرتے تھے ۔ پس جب آپ اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے، « التَّحِيَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ ّٰاللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ َّاللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا َّاللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ » ” تمام قولی ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں ۔ اے نبی ، آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکات آپ پر نازل ہوں ، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے دعا مانگتے ، پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده حسن