صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(199) بَابُ إِتْمَامِ السُّجُودِ وَالزَّجْرِ عَنِ انْتِقَاصِهِ باب: سجدوں کو مکمل کرنے اور اس میں کمی کرنے پر سختی کا بیان ،
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ الأَحْنَفِ الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلامٍ الأَسْوَدُ ، نا أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ جَلَسَ فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرَوْنَ هَذَا ، مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا ، مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، يَنْقُرُ صَلاتَهُ كَمَا يَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ ، إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ ، كَالْجَائِعِ لا يَأْكُلُ إِلا التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ ، فَمَاذَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ ، فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " . قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَقُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ : مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ فَقَالَ : أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ : عَمْرُو ابْنُ الْعَاصِ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، كُلُّ هَؤُلاءِ سَمِعُوهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَحضرت ابوعبداللہ الاشعری بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی پھر اُن کی ایک جماعت میں بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں ایک شخص ( مسجد میں ) داخل ہوا تو اُس نے نماز پڑھی ، تو اُس نے رُکوع کرنا شروع کیا اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارنے لگا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اُس شخص کو دیکھ رہے ہو ، جو شخص اس حالت میں مرگیا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملّت و دین پر نہیں مرے گا ۔ یہ شخص نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جیسے کوّا خون کو ٹھونگیں مارتا ہے ۔ بلاشبہ اُس شخص کی مثال جو رُکوع کرتا ہے اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارتا ہے ، اس بُھوکے شخص کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے تو بھلا وہ اسے کیا فا ئدہ دیں گی ؟ اس کے لئے مکمّل وضو کیا کرو ( خشک رہ جانے والی ) ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے ۔ رُکوع اور سجود کو مکمّل کیا کرو ۔ جناب ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ الاشعری سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا ( مجھے یہ حدیث ) سپہ سالاروں سیدنا عمرو بن العاص ، خالد بن الولید ، یزید بن ابی سفیان اور شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے ۔ ان سب نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔