صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها— پیشاب اور پاخانے کے لیے جاتے ہوئے اور ان سے فراغت کے وقت ضروری آداب کا مجموعہ
(46) بَابُ اسْتِحْبَابِ تَفْرِيجِ الرِّجْلَيْنِ عِنْدَ الْبَوْلِ قَائِمًا، إِذْ هُوَ أَحْرَى أَنْ لَا يُنْشَرَ الْبَوْلُ عَلَى الْفَخِذَيْنِ وَالسَّاقَيْنِ باب: کھڑے ہوکر پیشاب کرتے وقت ٹانگوں کو پھیلانا مستحب ہے کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ پیشاب رانوں اور پنڈلیوں پر نہ پھیلے
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَعَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى عَلَى سُبَاطَةِ بَنِي فُلانٍ ، فَفَرَجَ رِجْلَيْهِ وَبَالَ قَائِمًا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں لوگوں کے گھوڑے پر آئے، پھر اپنے دونوں پاؤں پھیلائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ محمد فاروق رفیع
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں لوگوں کے گھوڑے پر آئے، پھر اپنے دونوں پاؤں پھیلائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [صحيح ابن خزيمه: 63]
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے، بشرطیکہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچاؤ ممکن ہو۔ اس جواز کے باوجود بیٹھ کر پیشاب کرنا اولی و افضل ہے کیونکہ بیٹھ کر پیشاب کرنا آپ کا دائمی معمول تھا اور اس میں پیشاب کے چھینٹوں سے زیادہ بچاؤ ہے۔ پھر کھڑے ہو کر پیشاب کی ممانعت میں جتنی روایات وارد ہوئی ہیں وہ تمام ضعیف ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «رَانِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أبولُ قَائِمًا، فَقَالَ: يا عُمَرُ ا لا تَبُلْ قَائِمًا، فَمَا بُلْتُ قَائِمَا بَعْدُ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا: عمر! ”کھڑے ہو کر پیشاب مت کرو۔“
پھر اس کے بعد میں نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہیں کیا۔
[بيهقي: 102/1، ابن ماجه: 308، الضعيفه: 934]
اسناده ضعیف، عبد الکریم بن ابو المخارق ضعیف راوی ہے۔ بلکہ بسند صحیح ثابت ہے کہ کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ»
”اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔“
[كشف الاستار: 56/1، اسناده صحيح]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے، بشرطیکہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچاؤ ممکن ہو۔ اس جواز کے باوجود بیٹھ کر پیشاب کرنا اولی و افضل ہے کیونکہ بیٹھ کر پیشاب کرنا آپ کا دائمی معمول تھا اور اس میں پیشاب کے چھینٹوں سے زیادہ بچاؤ ہے۔ پھر کھڑے ہو کر پیشاب کی ممانعت میں جتنی روایات وارد ہوئی ہیں وہ تمام ضعیف ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «رَانِي رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أبولُ قَائِمًا، فَقَالَ: يا عُمَرُ ا لا تَبُلْ قَائِمًا، فَمَا بُلْتُ قَائِمَا بَعْدُ»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا: عمر! ”کھڑے ہو کر پیشاب مت کرو۔“
پھر اس کے بعد میں نے کھڑے ہو کر کبھی پیشاب نہیں کیا۔
[بيهقي: 102/1، ابن ماجه: 308، الضعيفه: 934]
اسناده ضعیف، عبد الکریم بن ابو المخارق ضعیف راوی ہے۔ بلکہ بسند صحیح ثابت ہے کہ کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ»
”اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔“
[كشف الاستار: 56/1، اسناده صحيح]
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 63 سے ماخوذ ہے۔