صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(168) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْنُتُ دَهْرَهُ كُلَّهُ، وَإِنَّهُ إِنَّمَا كَانَ يَقْنُتُ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ، أَوْ يَدْعُو عَلَى أَحَدٍ. باب: اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ دعا قنوت نازلہ نہیں پڑھی بلکہ آپ ( صرف اس وقت ) قنوت کرتے تھے جب کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف دعا فرماتے
حدیث نمبر: 620
نا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " لا يَقْنُتُ إِلا إِذَا دَعَا لِقَوْمٍ ، أَوْ دَعَا عَلَى قَوْمٍ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مسلسل و ہمیشہ ) قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے مگر جب کسی قوم کے حق میں دعائے خیر کرنا ہوتی یا کسی قوم کو بد دعا دینی ہوتی ( تو قنوت کرتے تھے۔