حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أنا أَبُو النُّعْمَانِ ، أنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الأَحْوَلُ ، حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ ، وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ ، وَالْعِشَاءِ ، وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ، إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، فِي الرَّكْعَةِ الأَخِيرَةِ ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ " . قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الإِسْلامِ فَقَتَلُوهُمْ . قَالَ عِكْرِمَةُ : هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک مسلسل ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور صبح میں ہر نماز کے بعد ، آخری رکعت میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم « سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ » کہتے تو قنوت کرتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے ایک قبیلے رعل ، ذکوان اور عصیہ پر بد دعا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مقتدی صحابہ آمین کہتے تھے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے ( ‏‏‏‏کچھ قراء کرام ) بھیجے تھے تو اُنہوں نے انہیں قتل کر دیا ۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث دعائے قنوت ( ‏‏‏‏کی مشروعیت کی ) کنجی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 618
تخریج حدیث اسناده حسن