صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(164) بَابُ الْقُنُوتِ بَعْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ لِلْأَمْرِ يَحْدُثُ، باب: رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کسی ہنگامی حالت کی وجہ سے دعائے قنوت پڑھنے کا بیان ، لہٰذا امام فرض نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے سراٹھانے کے بعد قیام کی حالت میں دعا مانگے گا
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ : مَا حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، إِلا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى الصُّبْحَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ رَكْعَةٍ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ " ، زَادَ أَحْمَدُ : " مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ، وَقَالُوا : اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَقَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصَّلاةِ ، كِتَابِ الْكَبِيرِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری ( رکعت کے ) رُکوع سے سر اُٹھایا تو یہ دعا مانگی : « اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ » ” اے اللہ ابولید بن الولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکّہ مکرمہ ( میں موجود ) بے بس و کمزوروں کو نجات عطا فرما ۔ “ جناب احمد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے ، « اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ » ” مسلمانوں میں سے ( کمزور مضر کے لوگوں پر اپنا سخت عذاب نازل فرما اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام ( کے عہد ) کی قحط سالی کی طرح قحط سالی مسلط کر دے ۔ “ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ پورا باب کتاب الکبیر کی کتاب الصلاۃ میں بیان کیا ہے ۔