حدیث نمبر: 602
نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتْرَ ، فَرَأَى النَّاسَ قِيَامًا وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ يُصَلُّونَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ لِنَفْسِهِ أَوْ تُرَى لَهُ ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَأَكْثَرُوا فِيهِ الدُّعَاءَ ، فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " . قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : قَالَ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ السِّتْرَ وَالنَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ " ، وَخَبَرُ إِسْمَاعِيلَ وَابْنِ عُيَيْنَةَ لَيْسَ هُوَ عَلَى هَذَا التَّمَامِ ، وَأَنَا اخْتَصَرْتُهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

‏‏‏‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ‏‏‏‏ اپنے حجرہ مبارک کا ) پردہ ہٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ، کیا میں نے ( ‏‏‏‏دین ) پہنچا دیا ہے ۔ بیشک نبوت کی خوشخبریوں میں سے صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے جنہیں کوئی مسلمان اپنے لئے دیکھتا ہے یا اُسے ( ‏‏‏‏دوسروں کے متعلق خواب ) دکھائے جاتے ہیں ۔ اور بلاشبہ مجھے رُکوع اور سجدے کی حال میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے ، لہٰذا رُکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو جبکہ سجدوں میں بکثرت دعا مانگو کیونکہ یہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں ۔ جناب ابوعاصم نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ا‏‏‏‏ُٹھایا جبکہ صحابہ کرام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے ۔ اسماعیل اور ابن عیینہ کی حدیث صرف انہی الفاظ پر مکمّل نہیں ہوتی ، میں نے اسے مختصر بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 602
تخریج حدیث صحيح مسلم