صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها— پیشاب اور پاخانے کے لیے جاتے ہوئے اور ان سے فراغت کے وقت ضروری آداب کا مجموعہ
(44) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرَ الْمُفَسِّرِ لِلْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْتُهُمَا فِي الْبَابَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنِ باب: گزشتہ دو ابواب میں مذکور دو احادیث کی تفسیر کرنے والی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 60
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْغرِ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا ، قُلْتُ : " أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا ؟ " قَالَ : " بَلَى ، إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ ، فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلا بَأْسَ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت مروان اصغر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رُخ بٹھایا، پھر وہ اُس کی طرف ( منہ کر کے ) بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے۔ میں نے عرض کی کہ ( اے ) ابوعبدالرحمٰن کیا اس سے منع نہیں کیا گیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ کیوں نہیں۔ بلاشبہ کھلی فضا میں اس سےمنع کیا گیا ہے۔ لیکن جب آپ کےاور قبلہ کےدرمیان پردہ کرنے والی کوئی چیز ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ محمد فاروق رفیع
حضرت مروان اصغر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رُخ بٹھایا، پھر وہ اُس کی طرف (منہ کر کے) بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے... [صحيح ابن خزيمه: 60]
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ بیت الخلا میں یا کسی رکاوٹ کے پیچھے پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پشت کرنا جائز ہے۔ اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ البتہ بیت الخلاء اور رکاوٹ کے پیچھے پیشاب اور پاخانہ کی صورت میں قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ کرنا مستحب عمل ہے۔ نیز کچھ لوگ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ قرار دیتے ہیں لیکن اختصاص کی کوئی دلیل ثابت نہیں، لٰہذا آپ کے اس فعل کو جواز پر محمول کیا جائے گا۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ بیت الخلا میں یا کسی رکاوٹ کے پیچھے پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پشت کرنا جائز ہے۔ اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ البتہ بیت الخلاء اور رکاوٹ کے پیچھے پیشاب اور پاخانہ کی صورت میں قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ کرنا مستحب عمل ہے۔ نیز کچھ لوگ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ قرار دیتے ہیں لیکن اختصاص کی کوئی دلیل ثابت نہیں، لٰہذا آپ کے اس فعل کو جواز پر محمول کیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 60 سے ماخوذ ہے۔