صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(152) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ التَّطْبِيقَ غَيْرُ جَائِزٍ بَعْدَ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ، باب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے حکم کے بعد تطبیق جائز نہیں ہے
وَأَنَّ التَّطْبِيقَ مَنْهِيٌّ عَنْهُ لَا أَنَّ هَذَا مِنْ فِعْلِ الْمُبَاحِ، فَيَجُوزُ التَّطْبِيقُ، وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ جَمِيعًا كَمَا ذَكَرْنَا أَخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَوَاتِ، وَاخْتِلَافَهُمْ فِي السُّوَرِ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، وَكَاخْتِلَافِهِمْ فِي عَدَدِ غَسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْضَاءَ الْوُضُوءِ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُبَاحٌ، فَأَمَّا التَّطْبِيقُ فِي الرُّكُوعِ فَمَنْسُوخٌ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَالسُّنَّةُ وَضْعُ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ.اور بلاشبہ تطبیق کا عمل ممنوع ہےـ یہ جائز نہیں ہے کہ تطبیق اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا دونوں عمل ہی درست ہوں جیسا کہ ہم نے نمازوں میں نبی اکرم ﷺ کی قراءت کے متعلق(مختلف)احادیث بیان کی ہیں-اور ان سورتوں کے بارے میں صحابہ کرام کا اختلاف ذکر کیا ہے جو نبی کریم ﷺ نماز میں پڑھا کرتے تھے- یا جیساکہ نبی کریم ﷺ کے اعضائے وضو کے دھونے کی تعداد کے بارے میں صحابہ کرام کا اختلاف ذکر کیا ہے-یہ سب طریقے جائز ہیں لیکن رکوع میں تطبیق کا عمل منسوخ اور منع ہوچکا ہے-اور سنت طریقہ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا ہےـ
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ وَضَعْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ ، فَرَآنِي أَبِي سَعْدٌ ، فَنَهَانِي ، وَقَالَ : إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ ، ثُمَّ نُهِينَا ، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَهُمَا إِلَى الرُّكَبِ " حضرت مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں جب رُکوع کرتا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیتا ۔ میرے والد محترم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے ( ایسے کرتے ہوئے ) دیکھا تو مجھے منع کیا اور فرمایا کہ بیشک ہم اسی طرح کیا کرتے تھے پھر ہمیں منع کر دیا گیا ، پھر ہمیں حُکم دے دیا گیا کہ ہم انہیں اپنے گھٹنوں کی طرف اُٹھایا کریں ( یعنی گھٹنوں پر رکھا کریں )