صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(144) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ الَّتِي ذَكَرْتُهَا لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جو الفاظ میں ذکر کیے ہیں ، یہ عام ہیں ، ان سے مراد خاص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ اٹھتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے تھے بلکہ بعض دفعہ کہتے تھے ، آپ رکوع یا سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے بلکہ آپ رکوع سے سراٹھانے کے سوا ہر مرتبہ اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے ہیں
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ " يُصَلِّي بِنَا ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ، وَحِينَ يَرْكَعُ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ ، وَإِذَا جَلَسَ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ ، فَإِذَا سَلَّمَ ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي صَلاتَهُ ، مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا "جناب ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے ، وہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے ، اور جب رُکوع کو جاتے ، اور جب رُکوع سے سر اُٹھانے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے ۔ اور جب پہلا سجدہ کرنے کے بعد سر اُٹھاتے تو ( دوسرا ) سجدہ کے لئے « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے اور جب ( دوسرے سجدے کے بعد ) بیٹھتے تو « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے ۔ اور جب دو رکعتوں کے کھڑے ہوتے تو « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے ، وہ اسی طرح دوسری دو رکعتوں میں بھی تکبیر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، بیشک میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب نماز ادا کرنے والا ہوں ۔ اس دنیا سے رخصت ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح تھی ۔