حدیث نمبر: 566
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ وَسَجَدَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَالْمُشْرِكُونَ جَمِيعًا، إِلَّا الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَرَادَا الشُّهْرَةَ، وَقَدْ قَرَأَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ وَلَمْ يَأْمُرْهُ- عَلَيْهِ السَّلَامُ-، وَلَوْ كَانَ السُّجُودُ فَرِيضَةً لَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، وَلَوْ لَمْ تَكُنْ فِي النَّجْمِ سَجْدَةٌ كَمَا تَوَهَّمَ بَعْضُ النَّاسِ لِعِلَّةِ هَذَا الْخَبَرِ الَّذِي سَنَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَمَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْمِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

کیونکہ نبی اکرمﷺ نے سجدہ کیا توآپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا اور شہرت کے طلب گار دو افراد کے سوا تمام مشرکین نے بھی سجدہ کیا-حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سورۃ نجم نبی کریم ﷺ کے پاس پڑھی اور سجدہ نہ کیا اور نبی کریم ﷺ نے انہیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا -اگر سجدہ تلاوت فرض ہوتا توآپ ﷺانہیں سجدہ کرنے کا حکم دیتے- اور اگر سورہ النجم مین سجدہ نہ ہوتا،جیساکہ بعض لوگوں کو اس حدیث کی علت کی بنا پر جسے ہم عنقریب بیان کریں گے-(ان شاء اللہ)،وہم ہوا ہے ،تو نبی اکرم ﷺ سورہ النجم میں سجدہ نہ کرتےـ

نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " عَرَضْتُ النَّجْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ مِنَّا أَحَدٌ " . قَالَ أَبُو صَخْرٍ : وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، فَلَمْ يَسْجُدَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد بزرگوار سے بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو « سورۃ النجم » پڑھ کر سنائی تو ہم میں سے کسی نے سجدہ نہ کیا ۔ جناب ابوضحر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پیچھے نماز پڑھی تو اُن دونوں نے بھی سجدہ تلاوت نہ کیا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 566
تخریج حدیث صحيح بخاري