صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(138) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السُّجُودَ عِنْدَ قِرَاءَةِ السَّجْدَةِ فَضِيلَةٌ لَا فَرِيضَةٌ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ آیت سجدہ ، تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرنا فضیلت کا حامل ہے فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 566
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " عَرَضْتُ النَّجْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ مِنَّا أَحَدٌ " . قَالَ أَبُو صَخْرٍ : وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، فَلَمْ يَسْجُدَامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد بزرگوار سے بیان کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو « سورۃ النجم » پڑھ کر سنائی تو ہم میں سے کسی نے سجدہ نہ کیا ۔ جناب ابوضحر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پیچھے نماز پڑھی تو اُن دونوں نے بھی سجدہ تلاوت نہ کیا ۔