صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(117) بَابُ قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ لَيْسَتَا مِنَ الْقُرْآنِ. باب: نماز میں معوذتین کی قرأت کرنے کا بیان ، اس شخص کے قول کے برخلاف جس کا گمان ہے کہ معوذتین قرآن مجید کا حصہ نہیں ہیں
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ . ح وَنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ، كِلاهُمَا عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ، قَالَ عَبْدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَضْرَمِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ هَاشِمٍ : عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ " يَا عُقْبَةُ ، أَلا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ " ، فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى بِهِمَا صَلاةَ الْغَدَاةِ ، قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةُ ؟ " . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَلَمْ يَقُلْ عَبْدَةُ : فِي السَّفَرِ ، وَقَالَ : فَلَمْ يَرَنِي أُعْجِبْتُ بِهِمَا ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ، فَقَرَأَ بِهِمَا ، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا عُقْبَةُ ، كَيْفَ رَأَيْتَ ؟ "سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ کی سواری ( کی نکیل تھامے اُسے ) چلا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عقبہ، کیا میں تمہیں پڑھی گئی دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں ؟ میں نےعرض کی کہ ضرور سکھا دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” « قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ » [ سورة الفلق ] اور « قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ » [ سورة الناس ] پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور پڑاؤ ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں یہی دو سورتیں تلاوت کیں ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : ” اے عقبہ ( ان سورتوں کی عظمت کے بارے میں ) کیا خیال ہے۔ “ یہ عبدالرحمٰن کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ اور عبدہ راوی نے ’’ سفرمیں “ کے الفاظ روایت نہیں کئے ۔ اور فرمایا کہ آپ نے دیکھا کہ مجھے یہ دو سورتیں زیادہ پسند نہیں آئیں ( ان کی فضیلت و عظمت میرے دل میں نہیں بیٹھی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں ۔ پھر مجھ سے فرمایا : ” اے عقبہ، کیا خیال ہے ؟ ( ان کی فضیلت کیسی ہے ؟ ) “