حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدَ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَائِشَ نَخْلٍ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ إِدْرِيسَ ، يَقُولُ : قُلْتُ لِشُعْبَةَ : مَا تَقُولُ فِي مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ؟ قَالَ : ثِقَةٌ ، قُلْتُ : فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَكْتُبُ فِي سَبُورُّجَةٍ ، قَالَ : سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ الَّذِي كَانَ يَرَى يَعْنِي الْهِلالَ قَبْلَ النَّاسِ ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِ هُوَ الَّذِي قَالَ عَنْهُ شُعْبَةُ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرتے وقت ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سے پردہ کرنا پسند کرتے تھے ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابان کو کہتے ہوئے سنا ( وہ کہتے ہیں ) میں نے ابن ادریس کو کہتے ہوئے سنا، میں نے شعبہ سے پوچھا کہ آپ مھدی بن میمون کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ (وہ) ثقہ (راوی) ہے۔ میں نےکہا کہ مجھےانہوں نےسلم علوی سے بیان کیا ہے، وہ کہتےہیں کہ میں نےابان بن ابوعیاش کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تختی پر لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ مھدی کہتے ہیں کہ سلم علوی وہ ہیں کہ جو لوگوں سے پہلے چاند دیکھ لیا کرتے تھے۔ اما م ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محمد بن ابو یعقوب، محمد بن اللہ بن ابویعقوب ہیں۔ وہ ( محمد ) اپنے دادا ( ابویعقوب ) کی طرف منسوب ہیں ( یعنی انہیں محمد بن عبداللہ کہنے کی بجائے محمد بن ابو یعقوب کہہ دیا جاتا ہے ) شعبہ ان کے ( دادا کے ) متعلق کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن ابو یعقوب نے روایت بیان کی جو کہ بنی تمیم کے سردار ہیں۔ ( یعنی ابو یعقوب )

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الآداب المحتاج إليها في إتيان الغائط والبول إلى الفراغ منها / حدیث: 53
تخریج حدیث «صحيح مسلم: كتاب الحيض: باب يستتر به لقضاء الحاجة ، رقم: 342 ، 2429 ، سنن ابي داود: 2549 ، سنن ابن ماجه: 340 ، سنن الدارمي: 663 ، 755 ، و احمد: 204/1 ، 205 ، وابن حبان: فى صحيحه: 1141 ، 1412 ، وابو يعلى: 157/12»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 342 | سنن ابن ماجه: 340 | سنن دارمي: 686

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ محمد فاروق رفیع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرتے وقت ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سے پردہ کرنا پسند کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابان کو کہتے ہوئے سنا (وہ کہتے ہیں) میں نے ابن ادریس کو کہتے ہوئے سنا... [صحيح ابن خزيمه: 53]
فوائد:

قضائے حاجت کے وقت درختوں یا اونچی جگہ کے پیچھے اس قدر چھپنا یا نشیبی زمین میں اتنا پردہ حاصل کرنا کہ لوگوں کی نظروں سے انسان کا تمام جسم غائب ہو جائے، مستحب عمل اور سنت موکدہ ہے۔

[نووي: 34/4]
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 53 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 342 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا اور پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی، جو میں کسی انسان کو نہیں بتاؤں گا، اور آپﷺ کو قضائے حاجت کے لیے، محبوب ترین اوٹ ٹیلہ یا کھجور کا باغ تھا، ابن اسماء نے اپنی حدیث میں حَائِطُ نَخْلٍ کا معنی نخلستان کیا، ہدف (ٹیلہ)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:774]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: قضائے حاجت کے لیے باپردہ جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ ستر عورت ہو سکے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 342 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 340 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پاخانہ اور پیشاب کے لیے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لیے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 340]
اردو حاشہ:
درخت کی آڑ میں قضائے حاجت کرنا درست ہے جب کہ وہ درخت پھل والا نہ ہو۔
کھجور کا پھل ایک خاص موسم میں اتارا جاتا ہے، اس لیے دوسرے موسموں میں اس سے پھل حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سائے کے لیے بھی کھجور کے باغ سے تو فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
الگ لگے ہوئے درختوں کو اس مقصد کے لیے اہمیت نہیں دی جاتی البتہ چھوٹے قد کے درخت جو پھل لگنے کی عمر کو نہیں پہنچے ہوتے اچھا پردہ فراہم کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 340 سے ماخوذ ہے۔