حدیث نمبر: 516
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، نا رَوْحُ بْنُ عِبَادَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ ؟ " لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ ؟ قَالَ : " الأَعْرَافُ " ، فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ : وَمَا الطُّولَيَانِ ؟ فَقَالَ مِنْ قِبَلِ رَأْيِهِ : " الأَنْعَامُ ، وَالأَعْرَافُ " . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . وَفِي خَبَرِ رَوْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ : قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ . قَالَ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ الْمُقْرِئَ ، يَقُولُ : " أَشْتَهِي أَنْ أَقْرَأَ فِي الْمَغْرِبِ مَرَّةً بِالأَعْرَافِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

حضرت مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ( اُن سے ) فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم مغرب کی نماز میں قصار مفصل ( چھوٹی چھوٹی ) سورتیں پڑھتے ہو ؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں دو بہت لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھا کرتے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، دو طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت کونسی ہے ( جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے ؟ ) تو اُنہوں نے فرمایا کہ وہ « سورة الأعراف » ہے ۔ ( جناب ابن جریج ) کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا کہ وہ طویل ترین سورتیں کون سی ہیں ؟ تو انہوں نے اپنی رائے سے جواب دیا کہ « سورة الأنعام » اور « سورة الأعراف » ۔ یہ عبد الرزاق کی روایت کے الفاظ ہیں ۔ امام ابوبکر رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت احمد بن نصر المقری کو فرماتے ہوئے سنا، میری خواہش ہے کہ میں نماز مغرب میں ( سنّت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ) ایک بار « سورة الأعراف » پڑھوں۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 516
تخریج حدیث صحيح بخاري