حدیث نمبر: 502
نا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍّ " . فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ ، فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، وَقَالَ : اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، يَقُولُ اللَّهُ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، يَقُولُ اللَّهُ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، يَقُولُ اللَّهُ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، يَقُولُ الْعَبْدُ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7 ، فَهُوَ لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی نماز پڑھی ( اس میں ) اُم القرآن نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، وہ ناقص ہے، ناقص ہے۔ مکمل نہیں ہے ۔ “ ( ابو سائب کہتے ہیں ) تو میں نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ، میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو پھر فاتحہ کیسے پڑھوں؟ ) تو اُنہوں نے میرے بازو کو دبایا اور فرمایا کہ اے فارسی، اپنے دل میں پڑھ لیا کرو ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ” اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے ۔ لہٰذا آدھی نماز میرے لئے اور آدھی میرے بندے کے لئے ہے، بندہ کہتا ہے « الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ » ” تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ تو ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری حمد و ثنا بیان کی ہے ۔ بندہ پڑھتا ہے « الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ » ” نہایت رحم و کرم کرنے والا ( ﷲ “ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف و توصیف بیان کی ہے ۔ بندہ تلاوت کرتا ہے کہ « مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ » ” ( ﷲ ) حساب کے دن کا مالک ہے۔ “ ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بڑائی اور بزرگی بیان کی ہے ۔ اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہے ۔ بندہ کہتا ہے کہ « إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ » ” ( اے اللہ ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ “ تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان منقسم ہے، اور اس کے لئے وہ ہے جس کا سوال کرے۔ بندہ کہتا ہے کہ « صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ » ” اے اللہ، ہمیں سیدھے راستے پر ڈال دے، ان لوگوں کے راستے میں جن پر تو نے انعام کیا ہے، جن پر غضب نہیں ہوا اور وہ نہ گمراہ ہوئے )۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 502
تخریج حدیث صحيح مسلم