صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأفعال اللواتي لا توجب الوضوء— ایسے افعال کا مجموعہ جو وضو کو واجب نہیں کرتے
(32) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ غَسْلِ الْيَدَيْنِ، وَالْمَضْمَضَةِ مِنْ أَكْلِ اللَّحْمِ؛ إِذِ الْعَرَبُ قَدْ تُسَمِّي غَسْلَ الْيَدَيْنِ وُضُوءًا باب: گوشت کھانے سے ہاتھ نہ دھونے اور کلی نہ کرنے کی رخصت ہے کیونکہ عرب کبھی ہاتھ دھونے کو بھی وضو کہہ دیتے ہیں
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کھایا ، پھر نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا ( یعنی نہ ہاتھ دھوئے نہ کلّی وغیرہ کی )
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال اللواتي لا توجب الوضوء / حدیث: 44
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 182 | سنن ابن ماجه: 491
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ محمد فاروق رفیع
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شانہ کھایا، پھر نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا (یعنی نہ ہاتھ دھوئے نہ کلّی وغیرہ کی) [صحيح ابن خزيمه ح: 44]
فواند:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم منسوخ ہو چکا ہے لٰہذا آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ اگر کھانے سے قبل وضو ہو تو آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
➋ امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ جمہور سلف و خلف کا موقف ہے کہ آگ پر پکی چیز کھانا ناقض وضو نہیں ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابو طالب، عبد اللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، عبد الله بن عمر، انس بن مالک، جابر بن سمرہ، زید بن ثابت، ابو موسیٰ، ابو ہریرہ، ابی بن کعب، ابو طلحہ، عامر بن ربیعہ، ابو امامہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے۔ جمہور تابعین کا بھی یہی موقف ہے اور مالک، شافعی، ابو حنیفہ، احمد، اسحاق بن راہویہ، یحیحیٰ بن یحییٰ اور ابوخثیمہ رحمہ بھی اس مذہب کے قائل ہیں لیکن عمر بن عبد العزیز، حسن بصری، زہری، ابو قلابہ اور ابو مجلز رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد شرعی وضو واجب ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہے (اس کے استعمال سے) وضو کرو۔
جب کہ جمہور علماء نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے جن میں آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد ترکِ وضو کا بیان ہے، وہ ناسخ ہیں اور آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ اور جمہور علماء نے اس حدیث (آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو) کے دو جواب دیئے ہیں: 1. یہ حدیث حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے منسوخ ہے۔ [ابن خزيمه: 43]
2. وضو سے مراد منہ اور ہاتھ دھونا ہے۔
نیز علماء کا یہ باہمی اختلاف صدر اول میں تھا پھر اس کے بعد تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آگ پر پکی چیز سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ [نووي: 42/4]
➌ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو بہر حال مستحب ہے۔ منتقی الاخبار کے مصنف کہتے یہ نصوص [احاديث الباب] آگ پر پکی چیز استعمال کرنے کے بعد وضو کے وجوب کی نفی کرتی ہیں۔ استحباب کی نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل کو جس نے سوال کیا تھا کہ ہم بکری کے گوشت سے وضو کریں؟ فرمایا تھا: (تمہاری مرضی ہے) چاہے وضو کرو یا نہ کرو، اگر اس سے وضو مستحب نہ ہوتا تو آپ اسے وضو کرنے کی اجازت نہ دیتے، اس لیے کہ تب یہ اسراف اور صرف پانی کا ضیاع ہوتا۔ [نيل الاوطار: 228/1]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کا حکم منسوخ ہو چکا ہے لٰہذا آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ اگر کھانے سے قبل وضو ہو تو آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
➋ امام نووی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ جمہور سلف و خلف کا موقف ہے کہ آگ پر پکی چیز کھانا ناقض وضو نہیں ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابو طالب، عبد اللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، عبد الله بن عمر، انس بن مالک، جابر بن سمرہ، زید بن ثابت، ابو موسیٰ، ابو ہریرہ، ابی بن کعب، ابو طلحہ، عامر بن ربیعہ، ابو امامہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے۔ جمہور تابعین کا بھی یہی موقف ہے اور مالک، شافعی، ابو حنیفہ، احمد، اسحاق بن راہویہ، یحیحیٰ بن یحییٰ اور ابوخثیمہ رحمہ بھی اس مذہب کے قائل ہیں لیکن عمر بن عبد العزیز، حسن بصری، زہری، ابو قلابہ اور ابو مجلز رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد شرعی وضو واجب ہے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہے (اس کے استعمال سے) وضو کرو۔
جب کہ جمہور علماء نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے جن میں آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد ترکِ وضو کا بیان ہے، وہ ناسخ ہیں اور آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ اور جمہور علماء نے اس حدیث (آگ پر پکی چیز کھانے سے وضو کرو) کے دو جواب دیئے ہیں: 1. یہ حدیث حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے منسوخ ہے۔ [ابن خزيمه: 43]
2. وضو سے مراد منہ اور ہاتھ دھونا ہے۔
نیز علماء کا یہ باہمی اختلاف صدر اول میں تھا پھر اس کے بعد تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آگ پر پکی چیز سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ [نووي: 42/4]
➌ آگ پر پکی چیز کھانے کے بعد وضو بہر حال مستحب ہے۔ منتقی الاخبار کے مصنف کہتے یہ نصوص [احاديث الباب] آگ پر پکی چیز استعمال کرنے کے بعد وضو کے وجوب کی نفی کرتی ہیں۔ استحباب کی نہیں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل کو جس نے سوال کیا تھا کہ ہم بکری کے گوشت سے وضو کریں؟ فرمایا تھا: (تمہاری مرضی ہے) چاہے وضو کرو یا نہ کرو، اگر اس سے وضو مستحب نہ ہوتا تو آپ اسے وضو کرنے کی اجازت نہ دیتے، اس لیے کہ تب یہ اسراف اور صرف پانی کا ضیاع ہوتا۔ [نيل الاوطار: 228/1]
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 44 سے ماخوذ ہے۔