صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(70) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الشَّطْرَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ الْقِبَلُ لَا النِّصْفُ، باب: اس باب کی دلیل کا بیان کہ اس آیت میں ”شطر“ سے مراد جانب و طرف ہے نصف یا آدھے کے معنی میں نہیں ہے
حدیث نمبر: 437
وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ قَدْ يُوقِعُ الِاسْمَ الْوَاحِدَ عَلَى الشَّيْئَيْنِ الْمُخْتَلِفَيْنِ، قَدْ يُوقِعُ اسْمَ الشَّطْرِ عَلَى النِّصْفِ وَعَلَى الْقِبَلِ أَيِ الْجِهَةِ.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور یہ بات اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب ایک ہی اسم کو دو مختلف چیزوں کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : قَالَ الْبَرَاءُ : وَالشَّطْرُ فِينَا قِبَلَهُمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بیت المقدس کی طرف مُنہ کرکے سولہ ماہ تک نماز پڑھی، پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک « شطر» سے مراد طرف و جانب ہے ۔