حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ، " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ ، ثُمَّ رَآهُ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر کے ٹکڑے کھا کر وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال اللواتي لا توجب الوضوء / حدیث: 42
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 194 | سنن ابن ماجه: 493

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 194 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو`
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ . . .»
. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 194]
فوائد و مسائل:
آگ پر پکی چیزوں سے وضو ابتدائے اسلام کا حکم تھا جو کہ منسوخ ہو گیا جیسے کہ پچھلی حدیث میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 194 سے ماخوذ ہے۔