حدیث نمبر: 407
نَاهُ نَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نا أَبُو الْمُنْذِرِ ، نا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيُّ سَاعَةٍ تُوتِرِينَ ؟ قَالَتْ : " مَا أَوْتِرُ حَتَّى يُؤَذِّنُونَ ، وَمَا يُؤَذِّنُونَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " قَالَتْ : وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ ، فُلانٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، وَإِذَا أَذَّنَ بِلالٌ ، فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ ، فَإِنَّ بِلالا لا يُؤَذِّنُ حَتَّى يُصْبِحَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کس وقت وتر ادا کرتی ہیں ؟ اُنہوں نے فرمایا کہ میں اُس وقت تک وتر نہیں پڑھتی حتیٰ کہ وہ اذان دینے لگیں، اور وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے حتیٰ کہ فجر طلوع ہو جائے ۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے، فلاں اور عمرو بن اُم مکتُوم رضی اللہ عنہ ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب عمرو اذان کہیں تو کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہیں ۔ اور جب بلال رضی اللہ عنہ اذان دیں تو اپنے ہاتھ ( کھانے سے ) روک لو ، کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ صبح ہونے پر ہی اذان کہتے ہیں ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح