صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(55) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – [يَرَى] بَعْضُ أَهْلِ الْجَهْلِ أَنَّهُ يُضَادُّ هَذَا الْخَبَرَ الَّذِي ذَكَرْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ باب: اس رویت کا بیان جسے بعض جہلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ وہ اِس روایت کے مخالف ہے جو ہم نے بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں
حدیث نمبر: 406
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلالٌ ، فَإِنَّ بِلالا لا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَرَى الْفَجْرَ " . وَرَوَى شَبِيهًا بِهَذَا الْمَعْنَى أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسواللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک ابن اٗم مکتٗوم رضی اللہ عنہا رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم کھاوٗ اور پیو حتیٰ کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیں ۔ کیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ طلوع فجر دیکھ کر ہی اذان دیتے ہیں ۔ اس سے ملتی جُلتی روایت ابواسحاق نے اسود کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے ۔