صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(39) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بأَنْ يُشْفَعَ بَعْضُ الْأَذَانِ لَا كُلُّهَا، وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِأَنْ يُوتَرَ بَعْضُ الْإِقَامَةِ لَا كُلُّهَا، باب: گذشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کلمات اذان کو دہرے کہنے کا حکم دیا ہے سارے کلمات نہیں
حدیث نمبر: 372
قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى ، يَقُولُ : لَيْسَ فِي أَخْبَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ فِي قِصَّةِ الأَذَانِ خَبَرٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا ، لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن زید کے قِصّہ اذان کی روایات میں اس سے زیادہ صحیح روایت اور کوئی نہیں کیونکہ محمد بن عبدﷲ بن زید نے اسے اپنے والد محترم ( سیدنا عبداللہ بن زید ) سے سنا ہے ۔ اور عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے سیدنا عبداللہ بن زید سے اس روایت کو نہیں سنا ۔