صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأذان والإقامة— اذان اور اقامت کے ابواب کا مجموعہ
(36) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ بَدْءَ الْأَذَانِ إِنَّمَا كَانَ بَعْدَ هِجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَنَّ صَلَاتَهُ بِمَكَّةَ إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ غَيْرِ نِدَاءٍ لَهَا وَلَا إِقَامَةٍ. باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اذان کی ابتدا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ ہجرت کے بعد ہوئی ہے اور مکہ مکرمہ میں آپ کی نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت کے تھی
حدیث نمبر: 365
قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِنَّمَا يَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ لِلصَّلَاةِ بِحِينِ مَوَاقِيتِهَا بِغَيْرِ دَعْوَةٍ»محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز کے لئے اُن کے اوقات میں بغیر اذان کے جمع ہو جاتے تھے ۔