صحيح ابن خزيمه
كتاب: الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
(31) بَابُ فَضْلِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَالْجُلُوسِ فِي الْمَسْجِدِ وَذِكْرِ دُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ لِمُنْتَظِرِ الصَّلَاةِ الْجَالِسِ فِي الْمَسْجِدِ. باب: نماز کا انتظار کرنے اور مسجد میں بیٹھنے کی فضیلت نیز مسجد میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والے کے لیے فرشتوں کی دعا کا بیان
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لا ظِلَّ إِلا ظِلُّهُ : الإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا ، لا تَعْلَمُ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " . قَالَ لَنَا بُنْدَارٌ مَرَّةً : امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : إِنِّي . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذِهِ اللَّفْظَةُ لا تَعْلَمُ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ ، قَدْ خُولِفَ فِيهَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، فَقَالَ : مَنْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ يَحْيَى ، لا يَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا يُنْفِقُ يَمِينُهُسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات قسم کے افراد کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے تلے جگہ عطا فرمائے گا جس روز اُس کے سائے کے سواکوئی سایہ نہیں ہو گا ۔ عدل وانصاف کرنے والا حکمران، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں نشو و نما پانے والا نوجوان، وہ شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا رہتا ہے ۔ وہ دوآدمی جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے باہم محبت کرتے ہیں ، اسی پر اکٹھّے ہوتے ہیں اور اس پر جدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ آدمی جسے بلند مرتبہ خوبصورت عورت ( برائی کے لئے ) بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ اور وہ شخص جو صدقہ کرتا ہے تو اُسے پوشیدہ رکھتا ہے حتیٰ کہ اس کے دائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ۔ اور وہ شخص جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اُس کے آنسو نکل جاتے ہیں ۔ “ ہمیں بندار نے ایک مرتبہ اس طرح روایت بیان کی کہ حسب والی اور خوبصورت عورت اُسے بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بیان کہ اُس کا دایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اُس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ اس میں یحییٰ بن سعید کی مخالفت کی گئی ہے ۔ یحییٰ کے علاوہ اس روایت کو بیان کرنے والے راوی نے یوں کہا ہے۔ ” اُس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اُس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ “