حدیث نمبر: 343
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَنَادَاهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " مَا يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلاةَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ غَيْرُكُمْ " . قَالَ الزُّهْرِيِّ : وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ إِلا مَنْ بِالْمَدِينَةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے با آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ( حضور ) عورتیں اور بچّے سو گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی طرف تشریف لائے اور فرمایا : ” اہل زمین میں سے تمہارے سوا کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کررہا ۔ “ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اُن دنوں صرف اہل مدینہ ہی نماز پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: 343
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح