صحيح ابن خزيمه
كتاب: الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
(20) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ. باب: بلا ضرورت نماز عصر کو موخر کرنے پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 335
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، نا الزُّهْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاةُ الْعَصْرِ ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " ، قَالَ مَالِكٌ : تَفْسِيرُهُ ذَهَابُ الْوَقْتِمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت سالم اپنے والد محترم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جس شخص کی نماز عصر فوت ہو گئی گویا اُس کے اہل و عیال اور مال ہلاک ہو گئے ۔ “ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی تفسیر یہ ہے کہ وہ وقت نکل جانے پر نماز پڑھتا ہے۔