صحيح ابن خزيمه
كتاب: الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
(17) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا " بَعْضَ الصَّلَاةِ دُونَ جَمِيعِهَا، وَبَعْضَ الْأَوْقَاتِ دُونَ جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک ”نماز اوّل وقت میں اداکرنا افضل ہے “ سے آپ کی مراد سب نمازوں کی بجائے کچھ نمازیں اور سب اوقات کی بجائے کچھ اوقات ہیں
حدیث نمبر: 330
نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا الصَّلاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ گرمی کی سختی جہنّم کی بھاپ سے ہے ، شدید گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو ۔ “