حدیث نمبر: 328
إِذْ قَدْ أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبْرِيدِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَقَدْ أَعْلَمَ أَنَّ لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ، وَسَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید گرمی میں نماز ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کی خبر دی ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اگر کمزور شخص کی کمزوری اور بیمار کی بیماری کا خیال نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشا کو آدھی رات تک مؤخر فرما دیتے۔

نا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدْ أَبْرِدْ " ، أَوْ قَالَ : " انْتَظِرِ انْتَظِرْ " ، فَقَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ " . قَالَ أَبُو ذَرٍّ : حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھنڈا کرو، ٹھنڈا کرو۔ “ یا فرمایا کہ ” انتظار کرو، انتظار کرو “ پھر فرمایا : ” بیشک گرمی کی شدت جہنّم کی بھاپ سے ہے لہٰذا جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کرلو ۔ “ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ( لہٰذا ہم نے نماز ظہر اُس وقت ادا کی ) جب ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب‏:‏ الصلاة / حدیث: 328
تخریج حدیث صحيح بخاري