حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَ مَعِي رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " ائْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، فَاقْتُلاهُ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ ، قَالَ لِي صَاحِبِي : هَلْ لَكَ أَنْ نَبْدَأَ فَنَطُوفَ بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا ، وَنُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا أَعْلَمُ بِأَهْلِ مَكَّةَ ، أَنَّهُمْ إِذَا أَظْلَمُوا رَسُوا أَفْنِيَتَهُمْ ، ثُمَّ جَلَسُوا بِهَا ، وَأَنَا أَعْرِفُ فِيهَا مِنَ الْفَرَسِ الأَبْلَقِ ، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ ، فَطُفْنَا بِهِ أُسْبُوعًا وَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب امیہ الضمری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ ایک انصاری شخص کو بھیجا اور حُکم دیا : ” ابوسفیان کے پاس جاؤ اور اسے قتل کردو ۔ “ پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ اور بیان کرتے ہیں ۔ پھر جب ہم مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو میرے ساتھی نے مجھ سے کہا ، کیا خیال ہے کیا ہم پہلے بيت اللہ شریف کا طواف کرکے دو رکعت نماز نہ پڑھ لیں ؟ میں نے کہا کہ مجھے اہلِ مکّہ کی عادت و طریقے کا علم ہے کہ جب رات کا اندھیرا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھروں کے صحن میں پانی چھڑک کر محفل جما کر بیٹھتے ہیں اور میں مکّہ مکرّمہ میں چتکبرے گھوڑے کے مالک کو بھی پہچانتا ہوں ( اس لئے ابھی تم پہلے اصلی کام کی طرف آؤ ) لیکن وہ مسلسل اصرار کرتا رہا اور وہ مجھے اس بات پر آمادہ کرتا رہا حتّیٰ کہ ہم بیت اللہ شریف پہنچ گئے اور ہم نے طواف کے سات چکّر لگائے اور دو رکعات ادا کیں پھر ہم وہاں سے نکل گئے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3064
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده ضعيف