حدیث نمبر: 3061
ثَنَاهُ ثَنَاهُ الْمَخْزُومِيُّ ، وَقَالَ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ : فَمَا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ لا تُجَاوِزُ الْحَرَمَ ، تَقُولُ : نَحْنُ أَهْلُ اللَّهِ لا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ ، وَلَمْ يَقُلْ كَانَ يَقِفُ بِعَرَفَةَ سِنِيهِ الَّتِي كَانَ بِهَا ، وَخَبَرُ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ( قریشی ہونے کے باوجود ) حدود حرم سے باہر کیوں گئے ہیں ۔ جبکہ قریش حدود حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے ، وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ والے لوگ ہیں ، ہم حرم کی حدود سے نہیں نکلیں گے ۔ لیکن یہ الفاظ بیان نہیں کیے کہ آپ اسی جگہ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں آپ پہلے ٹھہرا کرتے تھے ۔ جناب ربیعہ بن عباد کی روایت بھی اس باب کے متعلق ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3061