حدیث نمبر: 3059
لأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : أَضْلَلْتُ جَمَلا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرَفَةَ أَتَتَبَّعُهُ ، فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ وَاقِفًا فِي النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَإِنْ كَانَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جُرَيْجٍ قَدْ أَدْرَكَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، فَهَذَا الْخَبَرُ يُبَيِّنُ أَنَّ تَأْوِيلَ خَبَرِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَيْ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْقُرْآنِ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن میرا ایک اونٹ گم ہو گیا تو میں میدان عرفات میں اس کی تلاش میں تھا تو اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پر عرفہ کی شام میدان عرفات میں لوگوں کے ساتھ ٹھہرے ہوئے دیکھا ، اور یہ واقعہ آپ پر وحی کے نزول کے بعد کا ہے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں ، اگر عبد العزیز بن جریج نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو پایا ہو تو یہ روایت بیان کرتی ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت کی صحیح تاویل یہ ہے کہ یہ واقعہ آپ پر سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے کا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3059