صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(420) بَابُ إِبَاحَةِ التِّجَارَةِ فِي الْحَجِّ، باب: حج کے دوران تجارت کرنا جائز ہے
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الِاشْتِغَالَ بِمَا أَبَاحَ اللَّهُ مِنْ طَلَبِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ أَيَّامَ الْمَوْسِمِ فِي غَيْرِ الْأَوْقَاتِ الَّذِي يَشْتَغِلُ الْمَرْءُ عَنْ أَدَاءِ الْمَنَاسِكِ لَا يَنْقُصُ أَجْرَ الْحَاجِّ، وَلَا يُبْطِلُ الْحَجَّ، وَلَا يُوجِبُ عَلَيْهِ هَدْيًا وَلَا صَوْمًا وَلَا صَدَقَةًثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي أَوَّلِ الْحَجِّ يَبْتَاعُونَ بِمِنًى ، وَعَرَفَةَ ، وَسُوقِ ذِي الْمَجَازِ ، وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ ، فَخَافُوا الْبَيْعَ ، وَهُمْ حُرُمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ ، فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُهَا فِي الْمُصْحَفِسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ پہلے جب میں منیٰ ، عرفہ اور ذی المجاز بازار میں موسم حج میں خرید و فروخت کرتے تھے، پھر وہ ڈر گئے کہ وہ حالت احرام میں خرید و فروخت کرتے ہیں ، تو الله تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی « لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ » [ سورة البقرة : 198] ”تم پرکوئی گناہ نہیں کہ تم ( حج کے دوران ) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ جناب عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما في مواسم الحج ( حج کے موسم میں ) یہ الفاظ آیت کے ساتھ قرآن مجید میں تلاوت کرتے تھے ۔ ‘‘