صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(410) بَابُ النَّذْرِ بِالْحَجِّ ثُمَّ يَحْدُثُ الْمَوْتُ قَبْلَ وَفَائِهِ، وَالْأَمْرِ بِقَضَائِهِ باب: اگر کوئی حج کرنے کی نذر مانے اور پھر نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو اس کی طرف سے نذر پوری کرنے چاہیے ،
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ لِتَشْبِيهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَذْرُ الْحَجِّ بِالدَّيْنِاس میں یہ دلیل بھی ہے کہ مرنے والے کے پورے مال میں سے نذر ( حج وغیرہ ) پوری کرنی چاہیے ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کی نذر کو قرض کے ساتھ تشبیہ دی ہے ( اور قرض کل مال سے ادا کیا جاتا ہے ، ایک تہائی مال سے نہیں )
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ ، فَمَاتَتْ ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَاقْضُوا اللَّهَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ وَهُوَ أَبُو بِشْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حج کرنے کی نذر مانی پھر وہ فوت ہوگئی تو اس کا بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے یہ مسئلہ پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمھارا کیا خیال ہے ، اگر تمھاری بہن مقروض ہوتی تو کیا تم اس کا قرض ادا کر دیتے؟ “ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” تو اللہ کا قرض ( حج کی نذر ) ادا کرو کیونکہ الله کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔ “