صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(407) بَابُ حَجِّ الرَّجُلِ عَنِ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا تَسْتَطِيعُ الْحَجَّ مِنَ الْكِبَرِ باب: اگر عورت بڑھاپے کہ وجہ سے حج نہ کرسکتی ہو تو اس کے بدلے مرد حج کرسکتا ہے ۔
بِمِثْلِ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذَكَرْتُ أَنَّهَا مُجْمَلَةٌ غَيْرُ مُفَسَّرَةٍاس سلسلے میں حدیث کے الفاظ مجمل ہیں تفصیلی نہیں ہیں ( یعنی حدیث میں بوڑھے آدمی کی طرف سے حج کرنے کا ذکر ہے عورت کا ذکر نہیں ہے مگر مرد وعورت دونوں کی طرف سے حج کیا جاسکتا ہے ۔ )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : بَلَغَنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ أَدْرَكَ الإِسْلامَ ، وَلَمْ يَحُجَّ وَلا يَسْتَمْسِكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ ، وَإِنْ شَدَدْتُهُ بِالْحَبَلِ عَلَى الرَّاحِلَةِ خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْجُجْ عَنْ أَبِيكَ " .امام حسن بصری رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے عرض کیا کہ میرے بوڑھے والد نے اسلام قبول کیا ہے اور اُس نے حج نہیں کیا اور نہ وہ سواری پر جم کر بیٹھ سکتا ہے اور اگر میں اُسے رسّی کے ساتھ سواری پر باندھ دوں تو مجھے ڈر ہے کہ میں اسے قتل کر بیٹھوں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو ‘‘