حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بَكْرٍ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ : وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلافَتِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، قَالَ الْحَارِثُ : بَلَى ، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا ، قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ : مَاذَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ ، وَإِنِّي لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمُكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي فَلأُرِيكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " ، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب عبداللہ بن عبيد بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے عہد حکومت میں حارث بن عبد اللہ کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے حاضر ہوئے تو عبد الملک نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ حضرت ابوخبیب عبداللہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث سنی ہوگی جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سنی ہے ، حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں وہ حدیث تو میں نے بھی اماں جی سے سنی ہے ۔ اس نے پوچھا ، تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ اُس نے جواب دیا کہ اماں جی فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا ( کیونکہ ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے حلال مال ختم ہوگیا تھا ) اور اگر یہ لوگ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو بیشک میں ان کا چھوڑا ہوا حصّہ دوبارہ تعمیر کرا دیتا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم اس حصّے کو بیت اللہ شریف کی بنیادوں میں شامل کرنے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمھیں وہ جگہ دکھا دوں جو انھوں نے بیت اللہ سے نکال دی تھی ۔ تو آپ نے اماں جی کو تقریبا سات ہاتھ جگہ دکھائی ۔ یہ روایت عبد الله بن عبید کی ہے ۔ انھوں نے مکمّل قصّہ بیان کیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3023
تخریج حدیث صحيح مسلم