حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ فِي الْخَبَرِ : " فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ يَعْنِي مِنَ الْمُحَصَّبِ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَرَكِبَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے آپ نے وادی محصب میں اپنے صحابہ کو روانگی کا حُکم دیا تو لوگ چل پڑے ۔ پھر آپ صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ شریف کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کا طواف کیا پھر باہر آ کر سواری پر بیٹھے پھر آپ مدینہ منوّرہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2998
تخریج حدیث صحيح بخاري