حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(378) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَرَ الصَّلَاةَ بِالْأَبْطَحِ بَعْدَمَا نَفَرَ مِنْ مِنًى، باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے روانگی کے بعد وادی ابطح میں قصر نماز ادا کی تھی
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : هَلْ أَقَمْتَ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ قَالَ : " أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منوّرہ سے مکّہ مکرّمہ کی طرف سفر پر نکلے آپ ہمیں مدینہ منوّرہ واپس آنے تک دو دو رکعات ہی پڑھاتے رہے ۔ جناب یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نےسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا تم مکّہ مکرّمہ میں کچھ دن ٹھہرے تھے ؟ اُنھوں نے فرمایا کہ ہم مکّہ مکرّمہ میں دس دن ٹھہرے تھے ۔