حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا ؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ ، قَالَ : " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا ؟ ثُمَّ قَالَ : " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ ، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لا يُنَاكِحُوهُمْ ، وَلا يُبَايِعُوهُمْ ، وَلا يُؤْوُوهُمْ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْخَيْفُ الْوَادِي ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " لا يَرِثُ الْكَافِرَ الْمُسْلِمُ ، وَلا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجة الوداع میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، کل آپ مکّہ مکرّمہ میں کہاں تشریف فرما ہوںگے ، آپ نے فرمایا : ” کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے ؟ “ پھر فرمایا : ” ہم کل خیف بنی کنانہ میں اُتریں گے جہاں قریش نے کفر پر اتحاد کی قسمیں کھائی تھیں ۔ اور وہ اس طرح کہ بنو کنانہ اور قریش نے بنی ہاشم کے خلاف آپس میں یہ عہد کیا تھا کہ ان کے ساتھ نہ نکاح کریںگے اور نہ خرید و فروخت کریںگے اور نہ انھیں پناہ دیںگے ۔ “ امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ خیف ایک وادی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے اور نہ کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث بنے گا ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2985
تخریج حدیث صحيح بخاري