حدیث نمبر: 2965
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث کہ ابتدا میں جب نماز فرض ہوئی تو دو رکعات فرض ہوئی تھی ۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ( اور وہ چار رکعات ہوگئیں جبکہ مسافر کی نماز دو رکعات پڑھنا باقی رہیں ) یہ حدیث بھی صراحت کرتی ہے کہ مقیم شخص پرمنیٰ میں مکمّل نماز واجب ہے وہ قصر نماز نہیں پڑھ سکتا جبکہ وہ مقیم ہو اور مسافر نہ ہو ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب الصلاة میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا معنی بیان کردیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں واضح دلیل موجود ہے کہ اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں مقیم ہونے والے شخص پر واجب ہے کہ وہ منیٰ میں مکمّل نماز ادا کریں کیونکہ وہ اب مقیم ہوچکے ہیں ، مسافر نہیں رہے اور مقیم پر چار رکعات نماز فرض ہے ۔ اس لئے کسی غیر مسافر شخص ، عدم جنگ کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہونے والے شخص ، اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں باہر سے آ کر مقیم ہو جانے والے شخص کے لئے نماز قصر کرنا جائز ہیں جبکہ وہ منیٰ کی طرف جائیں اور اُن کی نیت واپس مکّہ مکرّمہ آنے کی ہو ، اس طرح وہ مسافر نہیں ہوںگے لہٰذا اُن کے لئے منیٰ میں نماز قصر کرنا جائز نہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2965
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔