صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس— نجاست کی وجہ سے کپڑوں کو دھو کر پاک صاف کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(229) بَابُ الزَّجْرِ عَنْ قَطْعِ الْبَوْلِ عَلَى الْبَائِلِ فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْهُ باب: مسجد میں پیشاب کرنے والے کو پیشاب کو فارغ ہونے سے پہلے روکنا منع ہے
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ صَبَّ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ يُطَهِّرُ الْأَرْضَ، وَإِنْ لَمْ يَحْفِرْ مَوْضِعَ الْبَوْلِ فَيَنْقُلُ تُرَابَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْعَمَ عَلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنْ بَعَثَ فِيهِمْ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُيَسِّرًا لَا مُعَسِّرًااور اس دلیل کا بیان کہ ایک ڈول پانی بہا دینے سے زمین پاک ہو جاتی ہے اگر چہ پیشاب والی جگہ کو کھود کر مسجد سے باہر پھینکا جائے جیسا که بعض عراقیوں کا خیال ہے ( کہ مٹی مسجد سے باہر پھینک دینی چاہئے ) جبکہ الله تعالی نے اپنے مومن بندوں پر انعام و احسان کیا ہے کہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آسانی کرنے والا، تنگی کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، نا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُزْرِمُوهُ " ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو کچھ لوگ ( اُسے ڈانٹنے اور روکنے کے لئے ) اُس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اس کاپیشاب نہ روکو، پھر ایک ڈول منگوا کراُس پر بہا دیا ۔ “